آج آپ کو ایک عظیم عاشق رسول ﷺ کی داستان بتاتے ہیں ۔ عظیم مغل شہنشاہ "اورنگ زیب عالمگیر" کا نام تو آپ سب نے سنا ہی ہوگا۔ آپ نے 50 سال تک غیر منقسم ہندوستان( جس کی سرحدیں افغانستان سے لیکر بنگال تک اور کشمیر سے لے جنوبی ہند تک پھیلی ہوئی تھیں) پر حکومت کی۔ آپ کے زمانہ حکومت میں مرہٹوں کی طرف سے بہت بغاوتیں ہوئیں تھی جس کی قیادت شیواجی کرتے تھے۔ اورنگ زیب نے ہر بغاوت کی طرح ان کی بھی بغاوت کو سختی سے کچل کر رکھ دیا تھا۔ شیواجی کی موت کے بعد اس بیٹے "شمبو جی" نے بہت شورش مچائی اور کئی علاقوں میں قتل و غارت گری کی ، اس پر طرہ یہ کہ اس نے خود اورنگ زیب کے ایک باغی بیٹے "اکبر" کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔ ان سب کی وجہ سے اورنگ زیب کے سالار "مقرب خان" نے اس پر لشکر کشی کی، اسے اور اس کے ساتھیوں بشمول *"کوی کیلاش"* کو گرفتار کرلیا۔ اور بڑی ذلت و خواری کے ساتھ ان سب کو دربار عالی میں بھیج دیا گیا۔
تاریخ داں اسلم راہی کے مطابق "اس موقع پر اورنگ زیب کو یہ بھی اطلاع دی گئی کہ شمبوجی نے کئی مواقع پر نہ صرف اورنگ زیب کو گالیاں دیں بلکہ رسول اکرم ﷺ کی شان میں بھی نہایت گستاخانہ الفاظ استعمال کئے تھے شمبوجی اور کیلاش کو جب اورنگ زیب کے سامنے پیش کیا گیا تو اورنگ زیب اپنی گالیوں کو برداشت کرتے ہوئے شاید ان دونوں کو معاف کردیتا۔ لیکن چونکہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس گستاخی کو کم از کم اورنگ زیب معاف کرنے والا نہیں تھا ۔ لہٰذا ان دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔"
(حوالہ: اورنگ زیب عا لمگیر، ص 49-50)
کچھ شدت پسند لوگوں نے اس واقعہ کو بڑے مغالطوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جبکہ اورنگ زیب نے کبھی بھی عدل کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کی نظیر اسی واقعہ کے بعد شیواجی و شمبو جی کے اہل خانہ کے ساتھ کئے گئے حسن سلوک سے ملتی ہے کہ کس طرح اس مفتوح خاندان پر جب وہ قید کر کے لائے گئے تو آپ نے ان کے ساتھ نہایت با عزت سلوک کیا اور ان کے آرام و آسائش کا پورا خیال رکھا گیا۔
ہمیں اس سے یہ سبق لینا ہے کہ ایک مسلمان کبھی بھی اپنے نبی کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا اور یہی ہمارے اسلاف و سلاطین کا شیوہ رہا ہے۔ ہمیں پھر سے ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دینا ہوگا تبھی ہم دونوں جہان میں سرخرو ہوسکتے ہیں