Monday, June 1, 2020

تحفظ ناموس رسالت مآب ﷺ میں سلاطین اسلام کا کردار

ہر سال 10 شوال المکرم کو دنیا بھر میں یوم رضا، اعلی حضرت امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ کے یوم ولادت کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ سال گزشتہ کی طرح  امسال  بھی تحریک فروغ اسلام کے تحت یہ اعلان ہوا ہے کہ یوم رضا کو "یوم  تحفظ ناموس  رسالت ﷺ" کے طور پر منایا جایئگا۔ اسی مناسبت سے ہم آپ کے سامنے تاریخ اسلام سے ایسے واقعات  پیش کررہے ہیں جس سے ہمیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ جب تک اسلام کے ماننے والے اور خصوصاً سلاطین /حکمران تحفظ رسالت ﷺ پر پہرا دیتے رہے تب تک ہم دنیا میں سر اٹھا کر جیتے رہے اور  جب سے ہم نے اور ہمارے سلاطین /حکمرانوں نے  یہ مقدس فریضہ ترک کردیا ہے تب سے ہم پر ذلت و خواری لاد دی گئی ہے۔

یہ سنہ 557ھ کا وقعہ تھا جب کسی رات کو سلطان نوراالدین زنگی رحمۃاللہ علیہ اپنے معمول کے مطابق سرکار دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں پرسوز انداز میں درود و  سلام کا نظرانہ پیش کرکے سو گئے تو آپ کی قسمت جاگ اٹھی اور خواب میں شب اسریٰ کے دولہا ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے ، آپ ﷺ نے نورالدین زنگی سے فرمایا کہ "نورالدین !یہ دونوں آدمی مجھےستارہے ہیں ۔ جلدی اٹھو اور ان کے شر کا خاتمہ کرو۔" سلطان نے مسلسل تین روز ایسا ہی خواب دیکھا تو فوراً مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا 15 دن کی مسافت کے بعد جب مدینہ پہنچ گئے تو ایک بڑی دعوت کا اہتمام فرمایا اور سخت حکم دیا گیا کہ ہر فرد کو اس دعوت میں شریک ہونا ہے ۔ جب دعوت سے آخری شخص بھی کھا کر جا چکا تو سلطان نے کہا ان میں سے تو کوئی بھی نہیں تھا ، پھر گورنر مدینہ سے سخت لہجہ میں دریافت کیا ، "کیا واقعی سب آگئے "؟ کسی کارندے نے کہا *صرف دو لوگ نہیں آئے ہیں وہ بہت عابد و زاہد ہیں اور کسی کے ہا ں نہیں جاتے اور بس  اپنے حجرے کے اندر عبادت میں مصروف رہتے ہیں،* جب انہیں بلایا گیا تو سلطان نے ایک ہی نظر میں انہیں پہچان لیا کہ یہ وہی دو لوگ ہیں جنہیں مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔ بہت اصرار پر بھی انہوں نے اپنی حقیقت نہیں بتائی ، تو سلطان خود ان کے کمرے میں گئے اچھے سے تلاشی لی گئی تو پتہ چلا کہ یہ دونوں مردود اپنے کمرے سے  جو روضہ رسول ﷺ سے نہایت قریب تھا ایک  سرنگ کھود رہے تھے اور وہ قریب حضور ﷺ کے پائے اقدس تک پہنچ گئے تھے۔! اس انکشاف کے بعد ان دونوں نے اعتراف کیا کہ ہم یہودی ہیں اور اس کام پر معمور کئے گئے تھے ۔ "سلطان نے غضبناک لہجے میں ان دونوں کا سر  اپنے ہاتھوں سے قلم کیا اور ایک بڑی آگ جلواکر بھرے مجمع میں ان کی نعشوں کو جلا دیا گیا۔ اس طرح وہ دونوں گستاخ جہنم رسید کردئے گئے ۔"
  (حوالہ : فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی ، از : خان آصف ، صفحہ نمبر:134-146)

اسی طرح ہم میں سے ہر ایک نے اسلام کے عظیم شیر "سلطان صلاح ا لدین  ایوبی" رحمۃاللہ علیہ" کا نام اور کارنامے تو سنے ہی ہونگے ۔ وہ بذات خود اس تمام واقعہ کے عینی شاہد اورسلطان  نور الدین زنگی کے جانشین و داماد بھی  تھے ۔ جس وقت آپ بیت المقدس کی بازیابی کے لئے کوششیں کررہے تھے اسی زمانے میں ایک بد بخت صلیبی  والئ کرک جس ملعون کا نام  رئجنالڈ تھا۔ اس نے دو بار حجاز مقدس کے سفر پر جارہے قافلوں کو لوٹ لیا تھا اور اس وقت سلطان کا معاہدہ امن بھی تھا صلیبیوں سے جس کی وجہ سے مسلمانوں نے یہ کہا کہ تم ہمارے ساتھ کئے معاہدے کو کیوں توڑتے ہو جس کے جواب میں اس شیطان نے  ذلت آمیز لہجے میں کہا کہ "اب تمہیں تمہارے نبی ہی آکر بچا ئیں گے"۔  یہ واقعہ بنیاد بنتا ہے تاریخ کی سب سے اہم جنگوں میں سے ایک جنگ کا جس کا نام تھا "معرکہ حطین" جس کے نتیجے میں ہی بیت المقدس ایک دفعہ پھر مسلمانوں کے ہاتھ فتح ہوا اور کئی سو سالوں تک ہمارے پاس رہا۔      جب اس  واقعہ کی خبر سلطان صلاح الدین تک پہنچی تو آپ نے قسم اٹھائی کہ اگر "اللہ پاک نے مجھے اس ملعون کے جسم پر تصرف بخشا تو میں اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا"۔  جب معرکہ حطین ختم ہوا اور صلیبی فوجوں کو عبرتناک طور پر شکست فاش دی گئی جس کی اپنی ایک داستان ہے جسے مغرب آج تک فراموش نہیں کرسکا ہے۔ تو اس ملعون    رئجنالڈ کو زندہ قید کرکے سلطان کے قدموں میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ صلیبی بادشاہ لسگنن  کو جنگ کے بعد اس کے مقام کے مطابق عزت دی گئی اور یہ ملعون بھی اسی کے ساتھ تھا لیکن اس پر کوئی رحم نہیں کیا گیا، اس نے گڑگڑا کر سلطان سے رحم کی بھیک مانگی جسے دیکھ کر دوسرے قیدیوں کو بھی اس پر ترس آنے لگا تھا لیکن سلطان نے کہا، "تیرا گناہ دوگنا ہے جس کی معافی نہیں ،اور میری قسم وہ قسم ہے جس کا کفارہ نہیں"۔ پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی شمشیر فضا میں لہرائی اور اگلے ہی لمحے رئجنالڈکی گردن زمین پر پڑی نظر آئی ، اور جسم تڑپ رہا تھا۔ جب نعش ٹھنڈی ہوئی تو سلطان نے کہا کہ "اس شیطان کو اٹھا کر کھلے میدان میں پھینک دو"۔ اس طرح سلطان نے ناموس  رسالت پر پہرا دیا اور دنیا کو بتا دیا کہ اصل کام یہی ہے، اور شاید اسی جذبہ کے تحت آپ کو بیت لمقدس  کی فتح نصیب ہوئی تھی۔
(حوالہ : فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی ، از : خان آصف ، صفحہ نمبر: 495-496)

یہ تو بس دو ہی مثالیں تھیں اگر تحریر کی طوالت کا خدشہ نہ ہوتا تو مزید باتیں آپ کے سامنے پیش کی جاتیں۔اللہ پاک ہمیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر ناموس رسالتﷺ  پر پہرا دینے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔آمین